فرماں بردار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - تابع، مطیع؛ نوکر، ملازم۔ "ارشاد فرمانبردار نکلا۔"      ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٣٨٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'فرمان' کے بعد فارسی مصدر 'برداشتن' سے مشتق صیغہ امر 'بردار' بطور لاحقہ فاعلی لانے سے مرکب توصیفی بنا جو اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تابع، مطیع؛ نوکر، ملازم۔ "ارشاد فرمانبردار نکلا۔"      ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٣٨٨ )